تھائی لینڈ کےخفیہ سکول پاکستانی مسیحیوں کے لیےامید کی کرن

پاکستانی شہری جیکب لائنز آف جوڈا نامی تعلیمی مرکز بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں

247

تھائی لینڈ میں پھنسے ہوئے پاکستانی مسیحی جو کئی برسوں سے پناہ گزین کے طور پر رجسٹرڈ ہونے کی کوششیں کر رہے ہیں ان کے لیے’خِفیہ‘ سکول امید کی کرن ہیں جہاں وہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ پاکستانی مسیحوں کی ایک تعداد پاکستان میں مذہبی ظلم وستم کی وجہ سے فرار ہوئے ہیں۔

سنی ( یہ ان کا اصل نام نہیں) کی عمر15 سال ہے وہ اس وقت کو یاد کرتے ہیں جب وہ پاکستان میں کرکٹ کھیلتے تھے۔ کرکٹ پاکستان میں ایک انتہائی مقبول کھیل ہے۔ سنی اور ان کے دوست اب ہر روز سکول کے بعد کرکٹ کھیلتے ہیں۔

سنی اپنے خاندان کے پانچ افراد کے ہمراہ ہمراہ تھائی لینڈ آئے وہ چار برسوں سے یہاں ہیں۔ تین ماہ پہلے سنی کے خواب اس وقت سچے ثابت ہوئے جب وہ ایک بار اپنے پندرہ کلاس فیلوز کے ہمراہ کرکٹ کھیلے۔

سنی نے بتایا ‘یہ لمحہ بہت یادگار تھا۔ میں چار برسوں سے باہر نہیں جا سکا تھا۔‘

سولہ پاکستان مسیحی نوجوان جن کی عمریں چار سے بیس برس کے درمیان ہیں، وہ اس مرکز سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان بچوں کے خاندان پاکستان میں مذہبی جبر سے بھاگ کر تھائی لینڈ میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔ تھائی لینڈ میں کوئی غیرقانونی تارک وطن اپنے بچوں کو اس سے بہتر کوئی سہولیت فراہم نہیں کر سکتا۔

سنی اور دوسرے نوجوان ‘دی لائن آف جوڈا’ نامی ایک سینٹر میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جو ایک پاکستانی نے بینکاک میں قائم کر رکھا ہے۔ یہ تعلیمی سینٹر اس اپارٹمنٹ میں قائم ہے جہاں پاکستان پناہ گزین رہتے ہیں۔

یہ پاکستانی پناہ گزین تھائی لینڈ میں اپنی غیر قانونی حیثیت کے باوجود اپنے آپ کو کسی حد تک محفوظ سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کا مالک مکان ان کی صورتحال کو سمجھتا ہے۔

اس سینٹر پر تعلیم حاصل کرنے والے سولہ طالب علموں میں سے صرف تین ایسے ہیں جنہیں یواین ایچ سی آر نے مہاجرین کا درجہ دے رکھا ہے جبکہ دوسرے تیرہ لوگوں کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔

اس تعلیمی ادارے کو قائم کرنے والے پاکستانی مسیحی جیک اب’ دی لائن آف جوڈا‘ تعلیمی مرکز میں معلم کی خدمات سرانجام دیتے ہیں۔

انھوں نے یہ سینٹر ایک امریکی جوڑے کی مدد سے قائم کیا ہے۔ وہ کہتا ہے یہ مرکز بہت اعلیٰ تو نہیں ہے لیکن وہ ان بچوں کو کچھ امید تو دلاتا ہے۔

انھوں نے بائیبل کا وہ حصہ بورڈ پر لکھ رکھا ہے جو مشکل صورتحال میں صبر کی تلقین کرتا ہے۔

ایورٹ ملر پاکستان بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں
وہ کہتے ہیں ہمارے لیے صورتحال اچھی نہیں، لیکن ہم صابر ہیں اور دعا کرتے ہیں۔

دو ماہ پہلے تک یہ طالبعلم زمیں پر بیٹھتے تھے۔ لیکن اب انھیں فنڈ مل رہے ہیں اور اس مرکز میں فرنیچر بھی ہے اور کتابیں بھی۔ ’بیپٹسٹ گلوبل ریسائنس نامی تنظیم نے انھیں دس ٹیبلٹ خرید کر دیئے ہیں۔

ملرز نہ صرف اس مرکزکو چلانے میں مدد دے رہے ہیں بلکہ وہ پانچ پاکستانی والدین کو اپنے بچوں کو گھر میں تعلیم دینے کی تربیت دے رہے ہیں۔ وہ اگلے ماہ سری لنکا سے آئے ہو اٹھارہ طالب عملوں کے لیے اسی طرح کا مرکز قائم کرنا چاہیتے ہیں۔

جیکب نے پاکستان کیوں چھوڑا؟

2013 میں لاہور میں جوزف کالونی کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ وہ واقعہ تھا جس نے جیکب کو یقین دلایا کہ اب مسیحی مذہب کے ماننے والوں کا پاکستان میں رہنا دشوار ہو چکا ہے۔

جیکب کراچی میں رہائش پذیر تھے۔ ایک دن ان کی بستی میں طالبان زندہ باد کے نعرے لکھے گئے۔ ان پوسٹروں میں غیر مسلمانوں کو مارنے کی ترغیب دی گئی تھی۔ جب جیکب کی آبادی کے لوگوں نے احتجاج کیا تو ان پر گولیاں چلائی گئیں۔ جیکب کراچی چھوڑ کر حیدرآباد چلے گئے لیکن ان کا خاندان بالاخر اس نتیجے پر پہنچا کہ اب ان کا پاکستان میں رہنا خطرے سے خالی نہیں ہےاور انھوں نے تھائی لینڈ جانے کا فیصلہ کیا۔ جیکب نے جب پاکستان چھوڑا اس وقت میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔

جیکب کہتے ہیں کہ جو کام وہ کر رہے ہیں، بہت تھکا دینے والا ہے لیکن وہ انھیں خدا سے حکم ہوا ہے کہ وہ اپنی کمیونٹی کے لیے کچھ کریں۔

تھائی لینڈ میں پاکستانی سفارت خانےکے اہلکارعامر نوید نے بات کرتے ہوئے ان اطلاعات کوغلط قرار دیا کہ پاکستان میں مختلف مذہب کے لوگوں میں کوئی جھگڑا ہے۔ عامر نوید کے مطابق پاکستان میں مسیحی لوگوں کو مکمل حقوق حاصل ہیں۔

اپارٹمنٹ کے اس فلور پر جہاں ’لائنز آف جوڈا‘ وہاں ایک اور تعلیمی مرکز قائم ہے جہاں چار سے سولہ برس کی عمر کے پندرہ طالب علم تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

روتھ اس مرکز میں معلم ہے۔ روتھ کہتی ہیں کہ ہرروز طالب علموں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔ پہلے اس مرکز میں پچیس بچے زیرِ تعلیم تھے لیکن اب ان میں سے کئی واپس جا چکے ہیں۔ روتھ بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جن کو مہاجرین کا درجہ نہیں دیا گیا ہے اور انھوں اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے۔

روتھ بتاتی ہے کہ لاہور میں ان کے خاندان کو مسلمان شدت پسندوں نے موت کی دھمکیاں دی تھیں۔ روتھ بتاتی ہیں کہ انھوں نے اس لیے تھائی لینڈ کا انتخاب کیا تھا کیونکہ ان کے انکل پہلے تھائی لینڈ میں موجود تھے۔ لیکن تین سال بعد بھی مہاجر کا درجہ کے لیے دی گئی درخواست مسترد ہونے کے بعد وہ پریشان ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ جب وہ پاکستان میں تھیں تو ایک پرائیوٹ ہسپتال میں نرس کے طور پر کام کرتی تھیں۔ وہ کہتی ہیں: ’ہم اپنے ملک واپس نہیں جا سکتے۔ اگر ہم واپس جاتے ہیں، ہم مارے جائیں گے۔ ‘وہ (مسلمان شدت پسند) سمجھتے ہیں جو شخص مسلمان نہیں ہے اسے زندہ رہنے کا حق حاصل نہیں ہے۔’

اس تعلیمی مرکز میں دو استاد ہیں جو سائنس، مذہب، ریاضیات، انگلش اور اردو پڑھا رہے ہیں۔ روتھ بتاتی ہیں کہ وہ بچوں کو انگلش کی تعلیم اس لیے دے رہی ہیں کہ وہ کسی تیسرے ملک میں گزارہ کر سکیں۔

یہ استاد ان بچوں کی اخلاقی مدد بھی کرتے ہیں جنھیں پولیس غیرقانونی طور پر ملک میں رہنے کی وجہ سے گرفتار کرتی ہے۔

روتھ بتاتی ہیں کہ بچے دن بدن تناؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔ جب کوئی صبح ہمارے کمرے پر دستک دیتا ہے تو ہم ڈر جاتے ہیں۔ سمجھتے ہیں کہ شاید پولیس یا امیگریشن والے آئے ہیں۔

ولسن چوہدری برطانیہ میں قائم برٹش پاکستانی کرسچیئن ایسوسی ایشن کے چیئرپرسن ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کی تنظیم گزشتہ دو برسوں سے بینکاک میں دو تعلیمی مرکز چلا رہی ہے اور جلد ایک اور مرکز بھی کھولے گی۔

ولسن چودھری بتاتے ہیں کہ انھیں دنیا بھر سے کرسچیئن تنظیموں سے عطیے ملتے ہیں اور ان کی مدد سے پاکستان میں مذہبی جبر کا شکار لوگوں کے لیے چار محفوظ گھر قائم کر رکھے ہیں۔ ہر مرکز میں چھ لوگ رہ رہے ہیں۔

نرگس اقبال غیر قانونی تارکین وطن کے حراستی سینٹر آئی ڈی سی میں سلاخوں کے پیچھے کھڑی ہیں جہاں انھوں نے  بات چیت کی۔ وہ اپنے شوہر کو دیکھ کی مسکرائی جو اسے دیکھنے کے لیے ہر روز وہاں آتا ہے اوراس کے لیے کھانا بھی لے کر آتا ہے۔ یہاں کئی درجن لوگ بند ہیں۔ نرگس اقبال نے بتایا کہ وہ دو سال پانچ ماہ سے حراست میں ہیں۔ وہ پراچہ اتت روڈ پر واقع ایک تعلیمی مرکز میں پڑھاتی تھیں جب انہیں گرفتار کر کے یہاں لایا گیا تھا۔

اس مرکز پر 67 طالب علم تھے جن میں کچھ کو گرفتار کر لیا گیا جب کچھ فرار ہونے میں کامیاب رہے۔ کچھ کو یو این ایچ سی آر نے آزاد کرایا۔

کولیشن فار دی رائٹس آف ریفوجی اینڈ سٹیٹ لیس پرسن کے مطابق اب بھی چالیس بچے حراستی مرکز میں قید ہیں۔ ان سب کو ان کے والدین کے ہمراہ گرفتارکیا گیا تھا۔ ان میں بیس بچے ریفوجی درجے حاصل کرنے کے مرحلے میں ہیں۔ تیئس جنوری کو نو اور بچوں کو انوٹ ایریا سے گرفتار کیا گیا تھا۔

بینکاک میں یو این ایچ سی آر کے ترجمان حانا میکڈونلڈ نے بتایا کہ یو این ایچ سی آر پناہ کے متلاشی لوگوں خصوصاً بچوں کی حراست کا مخالف ہے۔ البتہ یو این ایچ سی آر کے ترجمان نے کہا کہ بچوں کی حراست کو ختم کرنے سے متعلق تھائی لینڈ کی حکومت نے حوصلہ افزا اقدامات کیے ہیں۔

تھائی لینڈ کی حکومت ایک طریقہ وضع کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس کے تحت غیر قانونی تارکین وطن کے تھائی لینڈ میں رہائش کے دوران ان کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے گا۔

تھائی لینڈ کی وزارت خارجہ کے ترجمان بوسدی سینتی پی تکس نے کہا کہ باوجود اس کے تھائی لینڈ کنویشن آن سٹیسٹس آف ریفوجی 1951 کا حصہ نہیں ہے لیکن تھائی لینڈ انسانی بینادوں ایسے لوگوں کی مدد کے لیے اس کا فریق بننے کا سوچ رہا ہے۔

نرگس اقبال جو دوسال اور پانچ ماہ سے تھائی لینڈ کے حراستی مرکز میں قید ہے، کہتی ہے کہ میرا منہ زخمی ہے، میں کھانا نہیں کھا پاتی ۔ اس کے باوجود نرگس اقبال نے کہا کہ پاکستان جانے کے بجائے وہ تھائی لینڈ میں مرنے کو ترجیح دیں گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.