ایرانی صدر حیدر آباد کی مکہ مسجد کیوں گئے؟

مکہ مسجد میں حسن روحانی کا پرجوش استقبال ہوا

281

ایران کے صدر حسن روحانی نے انڈیا کے تین روزہ دورے کی ابتدا جنوبی ہند کے شہر حیدرآباد سے کی اور حیدرآباد اور ایران کے پانچ سو سالہ دیرینہ ثقافتی اور تاریخی رشتے کو تازگی بخشی ہے۔

حسن روحانی جمعرات کی شام حیدرآباد پہنچے اور جمعے کو انھوں نے قطب شاہی سلطنت کے سلاطین کے مقبروں پر حاضری دی۔

خیال رہے کہ ایرانی نسل کے قطب شاہی خاندان نے سنہ 1518 سے 1687 تک دکن کی گولکنڈہ ریاست پر حکمرانی کی۔

چھٹے قطب شاہی حکمراں قلی محمد قطب شاہ نے سنہ 1591 میں حیدرآباد شہر کی بنیاد رکھی تھی۔ اس وقت محلات، نہروں اور باغوں سے مزین اس شہر کا ڈیزائن ایرانی انجنیئر میر مومن نے تیار کیا تھا۔

حیدرآباد میں چونے کے پتھر سے تعمیر کردہ معروف عمارت چار مینار پر فارس کی فن تعمیر کے نقش نمایاں ہیں جن کا ڈیزائن ایرانی شہر مشہد اور اسفہان کی عمارتوں سے مشابہت رکھتا ہے۔

قطب شاہی سلطنت مغل بادشاہ اورنگزیب کے ہاتھوں شکست کے بعد مغل حکومت کا حصہ بن گئی۔

حیدرآباد سے ایران کا تعلق

چار مینارچار مینار میں قطب شاہی سلطنت کے کئی سلاطین کی قبریں ہیں

حیدرآباد کے کھانے، لباس اور پرانی عمارتوں کو دیکھ کر آج بھی یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس شہر کا ایران سے قدیمی تعلق رہا ہے۔

انڈیا میں سب سے بڑے صحن والی معروف مکہ مسجد قطب شاہی دور کی یادگار عمارت کہی جاتی ہے جہاں حسن روحانی نے جمعے کی نماز ادا کی۔

گو کہ یہاں عموما سنّی ہی نماز ادا کرتے ہیں لیکن شاید پہلی بار کسی بڑے شیعہ رہنما کے لیے اس کے دروازے کھلے ہیں۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد کی کمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیل اور امریکہ ان کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔

مکہ مسجد میں جمعے کی نماز کے بعد خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ‘اگر ہم مسلمانوں میں اتحاد ہوتا تو امریکی صدر کی کبھی بھی ہمت نہ ہوتی کہ وہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کا اعلان کرتا۔’

چار مینار کے قریب تعمیر اس مسجد کی بنیاد سنہ 1616-17 میں ساتویں قطب شاہی سلطان محمد قطب نے رکھی تھی۔ اس کا نقشہ ماہر فن تعمیر فضل اللہ بیگ نے تیار کیا تھا لیکن مغل حملے کے سبب اس مسجد کا کام درمیان میں ہی روکنا پڑا تھا۔

مکہ مسجد کے راج مستری ہندو تھے

مکہ مسجدمکہ مسجد میں ایران کے صدر حسن روحانی نے جمعے کو مسلمانوں کے مختلف مسالک کے علما سے خطاب کیا

تاریخ نویسوں نے اس مسجد کے بارے میں ایک دلچسپ بات بتائی ہے کہ مکہ مسجد کا راج مستری ایک ہندو تھا جن کی نگرانی میں آٹھ ہزار مزدوروں نے اور مستریوں نے اس کی تعمیر کی تھی۔

18 مئی سنہ 2007 کو یہ مسجد شہ سرخیوں میں تھی۔ ایک ہندو انتہا پسند تنظیم ‘ابھینو بھارت’ نے اس مسجد میں بم دھماکہ کیا تھا۔ جمعہ کی نماز کے بعد ہونے والے اس دھماکے میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ کیس اب بھی عدالت میں زیر التواء ہے۔

حسن روحانی ایران کے صدر منتخب ہونے کے بعد پہلی بار سنہ 2013 میں ہندوستان آئے تھے۔

جمعہ کو حسن روحانی نے شیعہ اور سنّی سمیت مختلف مکتبۂ فکر کے اسلامی علما سے خطاب کیا۔

شیعہ سنی اتحاد پر زور

استقبالحیدرآباد پہنچنے پر ایرانی صدر حسن روحانی کا استقبال کیا گیا

صدر روحانی نے شیعہ اور سنّی کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

انھوں نے الزام لگایا کہ مغربی ممالک دانستہ طور پر عراق اور شام جیسے ممالک میں ان کے درمیان اختلافات پیدا کررہے ہیں۔

روحانی نے ہندوستان کو امن اور بقائے باہمی کا سرچشمہ قرار دیا۔

انھوں نے کہا: ‘انڈیا مختلف عقائد اور مذاہب کے ساتھ امن سے رہنے کی ایک مثال ہے۔ یہاں یہ لوگ صدیوں سے ساتھ رہ رہے ہیں۔ شیعہ، سنی، صوفی اور سکھ صدیوں سے ساتھ رہے ہیں اور ملک اور یہاں کی تہذیب کی تعمیر کر رہے ہیں۔’

انھوں نے کہا کہ ایران انڈیا سمیت خطے کے تمام ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات رکھنا چاہتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.